بطورِ عظیم قوم، ہماری منفرد عادات و خصائل

Naseer Asmad Urdu Articles |  

بطورِ عظیم قوم، ہماری منفرد عادات و خصائل | 

Our claim as great nation and our interesting characteristical behaviors.

Naseer Asmad Urdu Articles
Naseer Asmad Urdu Articles


اگر چہ ہمارا تعلق  اور شمار بقول ہمارے دنیا کی عظیم ترین اقوام میں ہوتا ہے۔دنیا جہاں کا ٹیلنٹ  ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔حیرانی کی بات یہ ہوتی ہے کہ دنیا جہاں کے ٹیلنٹ کے باوجود ہم ترقی کی دوڑ میں حیرت انگیز طور پر پیچھے کیوں ہے لیکن اس کا بھی اک خود ساختہ اور ریڈی میڈ جواب ہمارے پاس ہمیشہ سے موجود رہتا ہے کہ ہم نے ترقی یافتہ ہوجانا تھا لیکن بقول ہمارے عالمی استعماری سازشیں ہماری راہ میں حائل ہوجاتی ہیں او ہم پھر سے  بزعم  اپنے  ہر جگہ اس  مدے پر فخروغرور کرتے بھی پائے جاتے ہیں لیکن حقیقتاََ جو عجیب و غریب عادات ہم میں پائی جاتی ہیں ہم ان کے بارے میں  غوروخوض تو کیا اک لمحہ  سوچنا بھی گوارا نہی کرتے۔ گرچہ ہماری یہ عادات وخصائل  ہمارے لیے تو عام سی بات ہوتی ہیں لیکن غیر ملکیوں اور دوسری ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کیلیے کافی اچھنبے کا باعث ہوتے ہیں اوربعض اوقات غیر معمولی حیرانی وپریشانی کا باعث ہوتے ہیں۔لیکن آپ داد دیجیے ہماری پراعتمادی کو کہ ہم اپنی ان عجیب وغریب عادات ومزاج کو خاطر ہی میں نہی لاتے  اور اپنے غیر متزلزل اور فولادی اعتماد پر قائم و دائم رہتے ہیں بلکہ اس پر بے جاء انداز سے فخرو غرور کے مرتکب بھی پائے جاتے ہیں۔

 

وقت کی عدم پابندی:یہ ہمارے سب سے عام خضائل میں سے ایک ہے۔نہ تو ہم خود وقت کے پابند ہوتے ہیں  اور نہ ہی دوسروں سے اس وضف کی توقع رکھتے ہیں۔شادی یا ولیمے کے موقع پر جو وقت مقر ر ہوتا ہے اسکے بارے میں نہ ہی تو میزبان توقع رکھتا ہے اور نہ ہی مہمان امید رکھتے ہیں کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ وقت کے عین مطابق ہی وقوع پزیر ہوگا۔ ذاتی ظور پر میں خود بار ہا ایسے تجربات سے گزرا ہوں۔دعوت نامے پر لکھے وقت کے مطابق دعوت پر پہنچا لیکن تین تین گھنٹے تک انتظار کی صعوبت برداشت کرنا پڑی۔سب سے دلچسب بات یہ ہوتی ہے کہ اکثر دعوت ناموں پر تحریر درج ہوتی ہے کہ وقت کی پابندی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر فالو کرنے والے تمام دوست احباب جانتے ہیں کہ میں سفر اور سیروسیاحت کا بہت ہی شوقین اور دلداہ  ہوں۔میری اک ٹوورز اینڈ ٹریولز کیمپنی کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیروسیاحت کے معاملات طے پائے۔ مذکورہ کیمپنی نے مجھے مقرہ مقام سے صبح ساڑھے پانچ بجے پک اپ کا ٹائم دیا۔ میں مقررہ جگہ پر  مقرہ وقت سے پندرہ منٹ پہلے پہنچ گیا لیکن مذکورہ کیمپنی جو اپنے آپ کو بہت ہی پروفیشنل مانتی تھی اُنکی گاڑی اور لوگ مقررہ جگہ پر ساڑھے نو بجے تشریف لائے۔ یہاں سے ہی زندگی کے معاملات میں ہماری سنجیدگی اور کمٹمنٹ کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے طے شدہ انٹرویوز اور میٹنگز وغیرہ کم ہی اپنے مقررہ قت پر ہوپاتے ہیں۔ عام طور پرہماری بنیادی خواہش ہی یہی ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے دفاتر یا فرائض ِ منصبی  والی جگہ  پر نہ  ہی جانا  پڑے  اور اگر جانا محال ہی ہو تو لیٹ جایا جائے  اور جلدی  واپسی کی راہ لی جائے۔یہ اس لیے ہوتا ہے کہ وقت کی قد کبھی ر ہماری ترجیحات کا حصہ ہی نہی رہی ہے۔درحقیقت وقت کی عدم پابندی سستی اور کاہلی کا ہی اک ذیلی شاخسانہ ہے۔

 

سستی اور کاہلی:اگرچہ ہم مانتے نہی ہیں لیکن ہم پاکستانی باالعموم بہت سست المزاج  وقع  ہوتے ہیں۔ہم  اپنی زندگی میں ذمہ داریوں سے کترانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی آرام طلبی کے نتیجے کے طور پر خود کو  ہلاکت تک میں ڈال سکتے ہیں، لیکن پھربھی کام کو سنجیدہ  اور پروفیشنل انداز سے نہی لیں گے۔ہماری ہمیشہ سے یہی خواہش ہوتی ہے کہ دس افراد پر مشتمل گھرانے میں ایک ہی بندہ کمائے اور باقی نو بندے اس کمائی پر پلتے بلکہ  عیاشی کرتے رہیں۔لیکن اب موجودہ  بڑھتی معاشی بدحالی لوگوں کو سستی سے جگارہی ہے اور حرکت و کوشش کرنے پر مجبور کررہی ہے۔وجہ یہ ہے کہ سست سے سست ترین بندہ بھی سخت ترین دھوپ میں سایہ تلاش کرنے پر مجبور ہو ہی جاتا ہے۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم قناعت پسندی اور سست روی میں تمیز نہی کرسکتے۔ہم ہمیشہ سے اپنی سست روی کا جواز قناعت پسندی میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کسی بھی کام یا سرگرمی کو سرانجام دیتے ہوئے ہم عمل اورپروفیشنلزم سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔بلکہ ہم کہ سکتے ہیں کہ پروفیشنلزم نام کی کوئی چیز ہمارے وہم و گمان  سے ہوکر بھی نہی گزرتی۔

 

بلاموقع گپ شپ کا شغف اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال: پاکستانی گپ شپ کا  زبردست  شغف رکھتے ہیں چاہے وہ  دفتری اوقات ہوں، کھانے کی میز پر یا چائے کے گرم کپ پریا کوئی بھی موقع ہو  ہم لوگ ہر طرح کی گپ شپ کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور بعض اوقات ہم اپنے ضروری امور کو اپنے اس شغف پر قربان کر دیتے ہیں۔ اکثر اوقات ہم اپنا وقت بے فائدہ اور غیر پیدواری گفتگو میں بتا دیتے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف تائم کلنگ ہی ہوتا ہے۔  بدلتے  زمانے اور نئی ٹیکنالوجی نے اب ٹائم کلنگ کے انداز بھی بدل دیے ہیں۔ اب زیادہ تر نوجوان نسل اپنا وقت سوشل میڈیا سکرولنگ یا چیٹنگ پر صرف کرتی ہے جو اسی طرح ہی کی اک انداز نو کی سرگرمی ہے۔ ہمارا مقصد یہ نہی کہ کہ گفتگو یا فن گفتگو ایک بے کار چیز ہے بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا جزو لاینفک ہے۔وربل کیمیو نیکیشن کے بغیر تو ہماری زندگی عملاََ مفلوج ہی ہو جائے۔ خرابی تب در آتی ہے جب ہم وقت کے ضیاع،  غیبت،  جھوٹ بولنا،  شیخیاں بگھارنا، دوسروں کے خلاف سازشو ں کے جال بننے کے عمل کو گپ شپ کا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔اگر ہم اس عمل کو ایک فن کے طور پر لیں جیسے شاعری، نثر،علمی مباحثے اور فن تقریر تو اس میں خرابی  اور قباحت کی کوئی بات نہی ہوسکتی۔


 شارٹ کٹس کا استعمال:جب ہم شارٹ کٹ کی بات کرتے ہیں تو ہم درحقیقت اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں چھپی  دھوکہ بازی کی بات کرہے ہوتے ہیں۔ آگے بڑھنے کیلئے راہ راست کا انتخاب ہی واحد راستہ ہے۔اس شاہراہ پر چل کر جانے کیلئے آپ کو نہ سرف کھٹن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے بلکہ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔جو بھی کام صبر اور حوصلے کے دشتِ ویراں سے گزر کر سر انجام دیا جاتا ہے وہ پائیداری کی منزل تک رسائی ضرور حاسل کرتا ہے۔انسانی ضروریا ت وخواہشات کا لامتناہی سلسلہ انسان کو سکون وقرار لینے نہی دیتا۔انسان چاہے جتنا ہی سست کیوں نہ ہواور چاہے کتنا ہی وقت فضول مشاغل میں  ہی گزارتا ہو لیکن انسانی خواہشات اور ضروریات اس کا گھیراؤ کر ہی لیتی ہیں۔اس صورت میں انسان شارٹ کٹس کی تلاش  میں نکل پڑتا ہے۔جگاڑ  اور عارضی بنیادوں پر کام چلانا انہی شارٹ کٹس کا نتیجہ ہے۔جگاڑ ہماری قوم کا سب سے بہترین اور محبوب مشغلہ ہے چاہے مضبوط بنیادوں پر کام کرنے کا آسان راستہ کیوں نہ ہی میسر ہو۔سستی اور جگاڑ کے نتیجے میں بہت سارے  مسائل جنم لیتے ہیں جیسے کہ رشوت ستانی اور اقرباء پروری وغیرہ۔ رشوت ستانی اور اقرباء پروری بھی شارٹ کٹس اور جگاڑ کے زمرے میں آتے ہیں۔یہاں بھی بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کی ذاتی محنت اور جدوجہد کے بغیر، محنتی افراد کے حقوق غضب کرکے فوائدکو  اپنے لیے استعمال کیا جائے۔ شارٹ کٹس اور جگاڑ خاص طور پر ہمارے  معاشرتی  اور سیاسی مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ہماری  سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جوڑ توڑ کی سیاست، سٹیٹس کو،سوشل میڈیا پروپیگنڈا ٹولز اور ان جیسے دیگر ذرائع کوشارٹ کٹس ٹولز کے طور پر استعمال میں لا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہوتا ہے۔

اور اب  آخر میں سب سے دلچسب  عادت بلاوجہ اور بے انتہا گھورنے کی عادت بھی ہمارے قومی مزاج کا خاص حصہ ہے۔ وہ  اعمال معمول سے ہٹ کر کی گئی چیزیں ہماری توجہ کا خاص مرکز بن جاتی ہیں۔اس عادت کا شکار سب سے زیادہ خواتین اور غیر ملکی ہوتے ہیں۔یہ عادت انہیں سب سے زیادہ غیر مطمئن اور پریشان کرتی ہیں۔اگر یہاں پر کوئی معمول سے ہٹ کر لباس پہنتا ہے تو وہ خاص توجہ کا مرکز بنتا ہے۔بلاوجہ گھورنے کی عادت شعوری یا غیر شعوری ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ اک اور عادت جو مضحکہ خیز حد تک ہماری فطرت کا حصہ ہے وہ بلاوجہ اور بلا ضرورت خارش کرنا  اور کھجلانا ہے۔ یہ عادت اس لیول تک بڑھی ہوئی ہے کہ ہم اکثر وبیشتر عوامی مقامات پر بھی شعوری یا بلاشعوری طور پر انتہائی قابل اعتراض  انداز سے بغیر کسی شرمندگی کے خارش و کھجلی کرتے پائے جاتے ہیں اور اس معاملے میں یہ ضروری نہی کہ ہم خارش یا ایگزیما کے مریض ہی ہوں۔یہ  ہے ہمارے عمومی معمولات، عادات اور مزاج کا اک انکسارانہ تجزیہ  لیکن یہاں اس بات کی سفارش یا تجویز ضرور دی جاسکتی ہے کہ  یا تو ہمیں کسی اچھے ڈرماٹالوجسٹ، ماہر امراض جلد سے رابطہ کرنا چاہیے یا اپنی ان  معیوب عادات واطور کو بدلنا چاہیے۔خیر اگر نہ بھی بدل سکیں تو ہمارے قومی مزاج پر اسکا کوئی  اثر یا فرق نہی پڑے گا کیونکہ ہم ایک غیر معمولی اور عظیم قوم ہیں  اور عظیم اقوام چھوٹی موٹی چیزوں  اور معاملات کو خاطر میں نہی لاتی ہوتیں۔


 


0 تبصرے